کراچی: صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کا آئینی اور جغرافیائی نقشہ کسی بھی رہنما کی ذاتی خواہش پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ناصر حسین شاہ نے مصطفیٰ کمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں سڑکوں پر آنے کا شوق ہے تو ضرور پورا کریں، موسم گرم ہے، پانی ہم پلا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 سال کا حساب مانگنے والے پہلے یہ بتائیں کہ سیاسی لانڈری سے دھلنے کا کتنا حساب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود چار صوبے ہی درست انداز میں نہیں سنبھل رہے، ایسے میں نئے صوبوں کی بات کرنا محض سیاسی نعرہ بازی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا پیسہ دبئی جانے کا دعویٰ کرنے والے پہلے بہادر آباد کے فنڈز اور اپنی وفاقی وزارتوں کا آڈٹ کرائیں۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وفاق میں وزارتیں لینے کے لیے اسلام آباد کا طواف کرنے والے سندھ کے مخلص نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق خالد مقبول صدیقی اپنی جماعت کی اندرونی دھڑے بندی اور دھمکیوں کو چھپانے کے لیے صوبہ کارڈ کھیل رہے ہیں۔

ناصر حسین شاہ نے "متروکہ زمین" کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں رہنے والا ہر شہری اس دھرتی کا وارث ہے، یہاں کوئی زمین لاوارث یا متروکہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والی ایم کیو ایم کو الیکشن قریب آتے ہی اچانک حیدرآباد کے عوام یاد آ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کھوکھلے نعروں کے بجائے کراچی اور حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کی خدمت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کا راگ الاپنے والوں کو عوامی سطح پر صرف سیاسی تنہائی اور مایوسی ہی ملے گی، جبکہ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں کو پہلے بلدیاتی اداروں میں اپنی ماضی کی کارکردگی کا حساب دینا چاہیے۔