کراچی کی تاریخ صرف بندرگاہ، تجارتی مراکز اور قدیم عمارتوں کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ اُن خوابوں کی بھی داستان ہے جو اس شہر کو ایک منظم، خوبصورت اور رہنے کے قابل شہر بنانے کے لیے دیکھے گئے تھے۔ افسوس کہ آج انہی خوابوں کی تعبیرات ہمارے سامنے ایک ایک کرکے مٹتی جا رہی ہیں۔ انہی میں ایک نام سنسناٹس ٹاؤن شپ کا ہے، جو آہستہ آہستہ کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو کر اپنی اصل شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ آج اس تاریخی بستی کو زیادہ تر لوگ گارڈن ایسٹ کے نام سے جانتے ہیں، حالانکہ یہ کراچی کی اولین منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ تھی، جس کی تاریخی اور شہری منصوبہ بندی کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
یہ ٹاؤن شپ 1908ء میں گوا سے تعلق رکھنے والی پرتگیز نژاد مسیحی برادری کی ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت سنسناٹس فابین ڈی ابریو (Cincinnatus Fabian D’Abreo) نے حکومت سے تقریباً ایک ہزار ایکڑ، یعنی چار مربع کلومیٹر اراضی حاصل کرکے ایک جامع شہری منصوبے کے تحت آباد کی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں قائم ہونے والی یہ بستی کراچی کی پہلی باقاعدہ منصوبہ بند رہائشی کالونی تھی، جہاں کشادہ سڑکیں، کھلی فضا، مذہبی و سماجی مراکز اور باوقار رہائش کا تصور پیش کیا گیا۔ اس بستی کا نام بھی اسی عظیم شخصیت کے اعزاز میں سنسناٹس ٹاؤن رکھا گیا۔
سنسناٹس فابین ڈی ابریو ستمبر 1862ء میں برطانوی ہندوستان کے گوا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مینوئل ڈی ابریو 1846ء میں سندھ ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ سنسناٹس نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی میں تعلیم حاصل کی، مگر صرف سولہ برس کی عمر میں والد کے انتقال کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ کر عملی زندگی میں قدم رکھنا پڑا۔ ابتدا میں وہ سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس میں کلرک رہے، بعدازاں معروف برطانوی تجارتی ادارے فوربس، فوربس اینڈ کیمبل سے وابستہ ہوگئے، جہاں درآمد و برآمد کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔
1889ء میں وہ سندھ کمشنر کے دفتر میں کلرک مقرر ہوئے۔ اپنی محنت، دیانت اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث 1895ء میں سکھر کے اسسٹنٹ کلکٹر بنے اور بعد ازاں میونسپلٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1897ء میں کراچی واپس آئے، جہاں اسسٹنٹ کلکٹر آف کسٹمز، شپنگ ماسٹر اور قائم مقام کلکٹر آف کسٹمز جیسے اہم سرکاری مناصب پر فائز رہے۔ وہ کئی برس کراچی میونسپلٹی کے کونسلر بھی رہے اور شہر کی ترقی و منصوبہ بندی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ڈی ابریو نے سماجی اور فلاحی میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کراچی گوان ایسوسی ایشن کے قیام میں ان کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں نے انڈین فلور ملز، یونین پریس اور انڈین لائف ایشورنس کمپنی کے قیام میں بھی حصہ لیا، جس کے وہ طویل عرصے تک سیکریٹری رہے۔ کراچی بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی انہوں نے شہری ترقی کے کئی منصوبوں کی سرپرستی کی۔ 1917ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے خود کو مکمل طور پر سماجی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ کراچی کے عوام ان کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ انہیں سندھ کے بارہ ممتاز شہریوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ 25 جنوری 1929ء کو 66 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، مگر وہ کراچی کی شہری تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔
سنسناٹس ٹاؤن شپ کی شناخت صرف اس کی منصوبہ بندی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا روحانی اور ثقافتی مرکز سینٹ لارنس چرچ (St. Lawrence’s Church) بھی تھا، جو آج بھی اس علاقے کی تاریخی علامت ہے۔ گووان مسیحی برادری نے اس چرچ کی تعمیر کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ 1907ء میں مقامی رہائشیوں نے اس کے لیے فنڈ قائم کیا اور 1925ء میں تقریباً چودہ ہزار پانچ سو روپے جمع کرکے چرچ کے لیے مستقل زمین خریدی گئی۔ مغل طرزِ تعمیر کے حسین عناصر سے مزین یہ عبادت گاہ بعدازاں کراچی کے رومن کیتھولک آرچ ڈایوسیس کا حصہ بنی اور 1912ء میں اسے باقاعدہ پیرش کا درجہ حاصل ہوا۔ کراچی کا یہ تاریخی سینٹ لارنس چرچ اپنے منفرد طرزِ تعمیر، مذہبی اہمیت اور تاریخی پس منظر کے باعث شہر کے نمایاں عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے چرچ کے سرپرست بزرگ سینٹ لارنس کا قدرتی قد و قامت کے برابر مجسمہ لارنس کیجیٹن ڈوارٹے نے عطیہ کیا تھا۔ یہ مجسمہ 1930ء میں خصوصی طور پر روم سے تیار کرا کے منگوایا گیا، جو چرچ کی مذہبی اور تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے اور یہ چرچ آج بھی اس تاریخی بستی کی تہذیبی شناخت کا امین ہے۔
لیکن افسوس کہ آج یہی سنسناٹس ٹاؤن شپ اپنی اصل شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ بلڈر مافیا، سرکاری اداروں کی خاموشی اور شہری منصوبہ بندی کے فقدان نے اس تاریخی بستی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ ایک ایک کرکے پرانے مکانات منہدم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ بلند و بالا تجارتی و رہائشی عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں۔ کشادہ گلیاں، کھلے سبزہ زار، قدیم طرزِ تعمیر اور تاریخی ماحول تیزی سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کو مٹا کر صرف کنکریٹ اور سیمنٹ کا ایک بے روح جنگل آباد کیا جا رہا ہو۔
سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا مطلب صرف فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنا ہے؟ کیا ہر تاریخی بستی کو بلڈرز کے حوالے کر دینا ہی شہری ترقی کہلاتا ہے؟ دنیا کے مہذب شہر اپنی تاریخی آبادیوں کو محفوظ رکھتے ہیں، ان کی بحالی پر سرمایہ خرچ کرتے ہیں اور انہیں ثقافتی ورثے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مگر کراچی میں اس کے برعکس تاریخی شناخت کو منافع کی نذر کیا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سنسناٹس ٹاؤن شپ کو باقاعدہ تاریخی و ثقافتی ورثہ (Heritage Precinct) قرار دے کر اس کی اصل شہری ساخت محفوظ کی جائے۔ سندھ حکومت، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، محکمہ آثارِ قدیمہ اور ورثہ تحفظ کے اداروں کو فوری طور پر اس علاقے میں بے ہنگم تعمیرات روکنے، تاریخی عمارتوں کی فہرست مرتب کرنے اور سخت حفاظتی قوانین نافذ کرنے چاہییں۔ اگر آج بھی غفلت برتی گئی تو آنے والی نسلیں صرف کتابوں میں پڑھیں گی کہ کبھی کراچی میں سنسناٹس ٹاؤن کے نام سے ایک مثالی منصوبہ بند بستی بھی ہوا کرتی تھی، جسے ہماری بے حسی اور مفاد پرستی نے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔
Category:Saya





